اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنان کے وزیراعظم نواف سلام نے آج منگل کو پارلیمنٹ میں حکومتی احتساب کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ تین برس کے دوران لبنان میں ہونے والی دو جنگوں کی مجموعی لاگت 27 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔ ان جنگوں میں 9 ہزار سے زائد افراد شہید اور 30 ہزار زخمی ہوئے۔
نواف سلام نے کہا کہ اکتوبر 2023 میں ہونے والی پہلی جنگ سے لبنان کو تقریباً 14 ارب ڈالر کا براہ راست اور معاشی نقصان پہنچا، جبکہ مارچ 2026 میں ہونے والی حالیہ جنگ نے ملک پر 7 سے 9 ارب ڈالر کا مزید بوجھ ڈال دیا۔
انہوں نے رواں سال ملکی معیشت میں 6.4 فیصد کمی کا بھی ذکر کیا، جبکہ گزشتہ سال معیشت میں 4.2 فیصد اضافہ ہوا تھا۔
لبنان کے وزیراعظم نے بتایا کہ حالیہ جنگ کے دوران تقریباً 91 ہزار رہائشی یونٹس مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہوئے، جبکہ یہ تعداد گزشتہ جنگ میں متاثر ہونے والے 2 لاکھ 30 ہزار رہائشی یونٹس کے علاوہ ہے۔ اس وقت 2 لاکھ 50 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہیں اور 75 سے زیادہ دیہات اور قصبے متاثر ہوئے ہیں۔
نواف سلام نے کہا کہ موجودہ محدود وسائل کے ساتھ حکومت اکیلے تعمیر نو کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتی۔ لبنان بنیادی طور پر عرب حمایت اور بیرونی مالی معاونت پر انحصار کر رہا ہے جبکہ عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ معاہدہ ملک پر عالمی اعتماد بحال کرنے کے لیے مرکزی راستہ ہے۔
مالی اور اقتصادی شعبے کے حوالے سے نواف سلام نے کہا کہ موجودہ بحرانوں کا ماضی کی پالیسیوں کے ذریعے مقابلہ کرنے کی روش مسترد کرتے ہوئے نئے بجٹ میں متوازن اخراجات کی پالیسی اختیار کی گئی ہے۔ حکومت نے مالیاتی نظام میں نظم و ضبط برقرار رکھنے اور 2027 کے بجٹ میں مالیاتی تباہی کو روکنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے پارلیمنٹ سے مالیاتی نظم و ضبط سے متعلق قانون اور بینکاری شعبے کی تنظیم نو کے مسودے پر بحث کے عمل کو تیز کرنے کا مطالبہ کیا۔
نواف سلام نے انسانی امداد کے حوالے سے بتایا کہ بین الاقوامی مالی امداد میں کمی کے باعث بحران مزید سنگین ہوا ہے۔ حکومت نے اقوام متحدہ کے تعاون سے 63 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی امداد کی درخواست کی تھی، تاہم عطیہ دینے والے ممالک نے اس رقم کا صرف 49.8 فیصد فراہم کیا، جبکہ 2024 میں یہ شرح 94.9 فیصد تھی۔
اس کے باوجود وزیراعظم نے قومی ہنگامی منصوبے کو فعال کرنے اور 325 رہائشی مراکز قائم کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کمزور اور ضرورت مند خاندانوں کو 5 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی نقد امداد فراہم کی گئی ہے جبکہ ہزاروں ٹن خوراک اور ایندھن بھی تقسیم کیا گیا ہے۔
لبنان کے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی موجودہ ترجیح بے گھر افراد کی جنوبی ضاحیہ، نبطیہ، زہرانی اور صور سمیت متاثرہ علاقوں میں باعزت واپسی کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے متعلقہ وزارتوں کو ملبہ ہٹانے، سڑکیں کھولنے اور مواصلات، بجلی اور پانی کی فراہمی بحال کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت کی ہے۔
توانائی کے شعبے میں تین اہم اقدامات
نواف سلام نے توانائی کے شعبے میں حکومت کی تین کامیابیوں کا ذکر کیا۔ ان میں 22 سال کی معطلی کے بعد بجلی کے شعبے کی نگرانی کے لیے بورڈ کی تشکیل، نجی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرنے کے لیے بجلی سے متعلق پالیسی دستاویز کی منظوری اور بجلی کی فراہمی کے دورانیے کو روزانہ 7 گھنٹے سے بڑھا کر 9 گھنٹے کرنا شامل ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ بجلی کی فراہمی میں یہ اضافہ جنگ سے پہلے کیا گیا تھا اور اس پر سرکاری خزانے سے کوئی اضافی رقم خرچ نہیں ہوئی۔
لبنان کے وزیراعظم نے نجی جنریٹر مالکان کو عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا ناجائز فائدہ اٹھانے اور سرکاری نرخوں کے برخلاف قیمتیں بڑھانے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ نگرانی کا نظام مزید مضبوط کیا جائے گا۔
بیروت بندرگاہ اور شمالی لبنان کی ترقی
اقتصادی ترقی کے حوالے سے نواف سلام نے کنٹینر ٹرمینل کو وسعت دینے اور بیروت بندرگاہ کے بنیادی ڈھانچے کو ترقی دینے کے منصوبوں کا اعلان کیا تاکہ بندرگاہ اپنا اقتصادی کردار دوبارہ حاصل کر سکے۔
انہوں نے شمالی لبنان اور عکار کی جامع ترقی کے منصوبے کا بھی ذکر کیا، جس میں رینے معوض ہوائی اڈے المعروف قلیعات کی بحالی، طرابلس بندرگاہ کی توسیع، ریلوے منصوبہ، خصوصی اقتصادی زون اور رشید کرامی بین الاقوامی نمائش مرکز کو فعال کرنا شامل ہے۔
نواف سلام نے کہا کہ حکومت کی جانب سے لبنان کی معیشت کو عرب ممالک کی منڈیوں سے دوبارہ جوڑنے اور سعودی عرب اور خلیجی ممالک کو لبنانی برآمدات کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کی کوششیں کامیاب رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ لبنان اور شام کے درمیان مشترکہ اعلیٰ سطحی کمیٹی کے قیام کا معاہدہ بھی طے پا گیا ہے۔
جنگ و امن اور اسلحے سے متعلق فیصلے ریاست کے اختیار میں ہونے چاہئیں
سیاسی اور سکیورٹی امور کے حوالے سے نواف سلام نے زور دیا کہ اپنی پوری سرزمین پر ریاستی اختیار اور خودمختاری کے بغیر پائیدار استحکام ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ و امن اور اسلحے سے متعلق فیصلے صرف قانونی ریاستی اداروں کے ہاتھ میں ہونے چاہئیں۔
انہوں نے آئین کے آرٹیکل 52 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ لبنان کسی دوسرے فریق کے ہاتھ میں مذاکراتی مہرہ نہیں ہے اور صیہونی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے صرف لبنانی حکومت ہی مجاز فریق ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس عمل کے مقاصد میں جنگ کا خاتمہ، لبنان کی سرزمین سے اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا، تمام قیدیوں کی رہائی اور بے گھر افراد کی محفوظ واپسی کو یقینی بنانا شامل ہے۔
نواف سلام نے سہ فریقی فریم ورک کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک رہنما فریم ورک اور عملی اقدامات کی پالیسی ہے، جس کے نتیجے میں فوج کی بتدریج تعیناتی اور دوبارہ تعیناتی عمل میں آئے گی۔ یہ کوئی حتمی بین الاقوامی معاہدہ نہیں ہے جس کی پارلیمنٹ سے منظوری ضروری ہو۔
لبنان کے وزیراعظم نے آخر میں کہا کہ طائف معاہدے اور وزارتی بیانات کے مطابق اسلحے کا اختیار ریاست کے پاس ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا: ’’ہم ایسے پیشہ ور مذاکرات کار نہیں جو صرف مذاکرات کے لیے مذاکرات کریں، لیکن حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ سفارتی ذرائع کے ذریعے ملک کے حقوق اور خودمختاری کی بحالی کے لیے سب سے کم نقصان دہ راستہ اختیار کرے۔‘‘
آپ کا تبصرہ